خانہ کعبہ سے متعلق چند حیران کن حقائق

10 Things You Don't Know About Kaaba | Kaaba Ki History | Urdu Section

س دنیا میں کوئی ایسی جگہ نہیں جو خانہ کعبہ کی طرح مقدس اور مرکزی حیثیت رکھتی ہوں یہ مقام سعودی عرب میں  وادی حجاز میں واقع ہے روزانہ ہزاروں افراد 24 گھنٹے خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہیں حانہ کعبہ کی مقدس تصویریں لاکھوں گھروں کی زینت ہیں

اور کروڑوں مسلمان اس کو اپنا قبلہ تسلیم کرتےاس کی جانب رخ کرتے ہوئے پانچ وقت کی نماز ادا کرتے۔ مکا یعنی کیو کی شکل میں تعمیر  ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی خاص مقام کا حامل بھی ہے حانہ کعبہ کئی دفعہ تعمیر ہو چکا ہے

حانہ کبعہ ایسا بلکل بھی نہیں تھا  جیسے آج  نظر آتا ہے یہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل اسلام کے دور میں تعمیر ہوا تھا
وقت کے ساتھ ساتھ اس کو دوبارہ تمعیر کرنے کی ضرورت پڑتی رہی ہے۔ بے شک ہم سب جانتے ہیں

حانہ کعبہ کی تعمیر کا ایک بہت بڑا حصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں نبوت ملنے سے پہلے ممکن ہو چکا تھا۔
یہ وقت تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑی خونریزی کو اپنی دور اندیشی سے روکا تھا۔  نبی کریمﷺ نے ایک بڑے میں کپڑے میں حجر اسود کو ہر قبیلے کے بڑے سردار سے اٹھایا تھا۔

اس کے بعد آنے والے وقت میں کئی دفعہ حانہ کعبہ کی تعمیر ہوئی۔ آخر میں حانہ کعبہ کی تفصیل سے آرائش 1996  میں ہوئی تھی جس کے نتیجے میں بہت سے پتھروں کو ہٹا دیا گیا تھا بنیاد کو مضبوط کرکے نئی چھت ڈالی گئی تھی یہ اب تک کی سب سے بڑی اور آخری تعمیر ہے۔

 اب خانہ کعبہ کی عمارت کو پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ تصور کیا جاتا ہے حانہ کعبہ کے دو دروازے اور ایک کھڑکی ہوا کرتی تھی
حانہ کعبہ کی تعمیر سے پہلے ایک  دروازہ اندر داخل ہونے کے لئے اور ایک دروازہ باہر جانے کے لئے ہوا کرتا تھا۔ ایک زمانے تک حانہ کعبہ میں کھڑکی ہوا کرتی تھی

 حانہ کعبہ کی جو شکل  آج موجود ہے اس میں صرف دروازہ موجود ہے۔ لیکن کھڑکی اب ختم ہو چکی ہیں۔حانہ کعبہ کے  محتلف رنگ ہم لوگوں نے ہمیشہ حانہ کعبہ کو کالے رنگ کی قصواء اور سونے کے دھاگوں میں دیکھنے کی ایسی عادت ہو چکی ہے

 کہ ہم اس کو  کسی اور  رنگ میں تصور بھی نہیں کرسکتے یہ روایت عباست جن کے گھر کا رنگ کالا تھا کہ  دور سے چلی آرہی ہے
لیکن اس سے پہلے خانہ کعبہ مختلف گلاف کے رنگوں سے ڈھکا رہتا تھا ان میں سبز لال اور  سفید رنگ شامل ہیں

حانہ کعبہ کی چابیاں ایک خاندان کی طویل میں ہیں۔فتح مکہ کے وقت نبی کریم ٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو حانہ کعبہ کی چابیاں دی گئیں تھیں
بجائے اسکے کے نبی کریم صلی اللہ وسلم یہ چابیاں  اپنے پاس رکھتے

۔ آپ صلی اللہ وسلم بے چابیاں بنی شعیبہ کے خاندان عثمان بن طلحہ کو واپس کردی اس وقت سے لے کر آج تک وہ ان چابیاں کے رکھوالے ہیں۔ اور نبی کریمﷺ  کے نادر الفاظ کی روشنی میں یہ چابیاں ہمیش ان کے پاس رہیں گی۔ آپﷺنے فرمایا۔
اے بنی طلحہ یہ چابیاں روز قیامت تک تیری تحویل میں رہیں گے سوائے اس کے وہ زبردستی تجھ سے غیر اخلاقی طریقے سے چھین لی جائے۔

 پہلے خانہ کعبہ عوام کے لیے کھلا رہتا تھا پہلے حانہ کعبہ ہفتے میں دو دفعہ عوام کے لیے کھلا رہتا تھا ہر کوئی حانہ کبعہ کہ  اندر داخل ہو کرعبادت کر سکتا تھا لیکن موجودہ زمانے میں ظہرین کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے اور دوسری وجوہات کی وجہ سے اب خانہ کعبہ کو سال میں صرف دو مرتبہ ہی کھولا جاتا ہے

حانہ کبعہ میں اعلی شخصیات اور خاص مہمان ہیں داخل ہو سکتے ہیں اور  حانہ کعبہ کے آس پاس تراکی کی جاسکتی تھی حانہ کعبہ وادی کے نچلے حصے میں ہونے کی وجہ سے دیگر مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ کہ جب بارش ہوا کرتی تھی تو وادی میں سیلاب آجایا کرتا تھا یہ مکہ جسے شہر کے لیے کوئی انوکھی بات نہیں تھی

لیکن یہ بات دوسری مسئلوں کی وجہ بنتی تھی بارش کے آخری دن میں خانہ کعبہ آدھا پانی میں ڈوبہ رہتا تھا یقیناً آپ کے ذہن میں یہ سوال اٹھا ہوگا اس دوران خانہ کعبہ کا طواف کرنا روک گیا ہو گا ہرگز نہیں مسلمان نے حانہ کعبہ کے اردگرد تراکی شروع کردی تھی

 کئی سالوں  تک بہت سے لوگ یہ اندازہ لگاتے رہے کہ خانہ کعبہ اندر سے کیسا ہے۔ وہ لوگ خوش نصیب ہیں جن کو خانہ کعبہ کے اندر داخل ہونے کی سعادت ملی اور ایک خوش نصیب وہ جن کو تصویر بنانے کا موقع ملا اور لاکھوں لوگوں نے یہ تصویر انٹرنیٹ پر آن لائن دیکھی

حانہ کعبہ کا اندر کا حصہ سنگِ مرمر اور سبز رنگ کے کپڑے سے ڈھکا ہوا ہے جس دور کے حکمران نے حانہ کعبہ کی دوبارہ آرائش کروائی تھی اس نے خانہ کعبہ کے اندر اپنے نام کی تختی بھی لگوائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبوت ملنے سے پہلے حانہ کعبہ کی دوبارہ تعمیر ہوئی تھی

قریش نے اس بات کی حامی بھری کہ وہ حلال کمائی سے ہی اس کی تمعیر کریں گے  اپنی زندگی کے آخری حصے میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حانہ کعبہ کی دوبارہ تعمیر کا ارادہ کیا تھا لیکن یہ عظیم فریضہ انجام دینے سے پہلے ہی آپ صلی اللہ وسلم اس دنیا سے پردہ فرما گئے تھے۔خلیفہ عبد اللہ بن زبیر کے دور حکومت کے چند سال میں حانہ کعبہ اپنی اسی شکل میں موجود تھا جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تھا

یہ بھی پڑھیں عورت کی اہمیت دل کو چھو جانے والی باتیں

یہ آرٹیکل شئیر ضرور کریں شکریہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *